ایمن اور زیان کی کہانی
خاموش محبت
گاؤں کی صبح ہمیشہ ایک الگ سکون لے کر آتی تھی۔ ایمن کو چھت پر کھڑے ہو کر نیلا آسمان دیکھنا بہت پسند تھا۔ نیچے گلی سے زیان روز بچوں کو اسکول جاتے دیکھ کر مسکرا دیتا۔ ۔
دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے، مگر بات کم اور احساس گہرے تھے۔ ۔
گاؤں کی چھوٹی سی لائبریری ان کی خاموش ملاقات کی جگہ بن گئی تھی۔ زیان کتابوں میں گم رہتا، اور ایمن آہستگی سے آ کر سامنے والی میز پر بیٹھ جاتی۔ کبھی کبھی نظر ملتی، اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ سب کچھ کہہ دیتی۔
ایک دن اچانک بارش ہونے لگی۔ ایمن چھت پر کپڑے سمیٹ رہی تھی کہ پاؤں پھسلا۔ زیان نے دور سے دیکھ کر فوراً مدد کی۔
۔ زیادہ بات نہیں ہوئی، بس ایک سوال
“ٹھیک ہو؟”
اور ایک جواب
“ہاں۔”
مگر وہ لمحہ دل میں ٹھہر گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ زیان شہر پڑھنے چلا گیا، اور ایمن نے بھی اپنی تعلیم جاری رکھی۔ گاؤں ویسا ہی تھا، مگر گلیاں کچھ سنسان لگتی تھیں۔
کئی برس بعد زیان واپس آیا۔ وہ لائبریری گیا تو دیکھا ایمن بچوں کو پڑھا رہی ہے۔ نظر ملی، دونوں مسکرا دیے۔ اس بار خاموشی میں بوجھ نہیں تھا، بلکہ سکون تھا۔ ۔
Comments
Post a Comment